اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے قرطبہ، سپین میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل اولیو کونسل (آئی او سی) کے 122 ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور اجلاس سے خطاب کیا۔ اس عالمی اجلاس میں مختلف ممالک کے وزراء، ماہرین اور زیتون کے صنعت سے وابستہ رہنما شریک ہوئے۔ اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے ہسپانوی وزیر برائے زرعی …
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی سپین میں انٹرنیشنل اولیو کونسل کے 122 ویں اجلاس میں شرکت، انٹرنیشنل اولیو کونسل کے مشترکہ وژن عالمی زیتون کے شعبے میں اعلیٰ معیار، پائیداری اور بین الاقوامی تعاون کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ

گیشتریں ھال
اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے قرطبہ، سپین میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل اولیو کونسل (آئی او سی) کے 122 ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور اجلاس سے خطاب کیا۔ اس عالمی اجلاس میں مختلف ممالک کے وزراء، ماہرین اور زیتون کے صنعت سے وابستہ رہنما شریک ہوئے۔ اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے ہسپانوی وزیر برائے زرعی امور، ماہی پروری اور خوراک لوئیس پلانس، ایگزیکٹو ڈائریکٹر انٹرنیشنل اولیو کونسل جائمے لیلو اور سپین کے زیتون کے شعبے کا پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے لیلو اور جہانگیر، صدر آئی او سی کونسل و نمائندہ ترکیہ کے ان حوصلہ افزاء کلمات کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے 11 نومبر 2025ء کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کے زیتون کے شعبے کے بارے میں ادا کیے۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان ملک بھر میں ایک پائیدار اور مسابقتی زیتون ویلیو چین کے قیام کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قومی پروگرام کے دو بنیادی مقاصد ہیں، خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنا اور زیتون کی کاشت، پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے دیہی کمیونٹیز کے لیے باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنا۔ پاکستان قدرتی طور پر لاکھوں جنگلی زیتون کے درختوں اور تقریباً دس لاکھ ایکڑ ایسی بنجر یا کم پیداواری زمین سے مالا مال ہے جو زیتون کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں 50 ہزار ایکڑ رقبے پر زیتون کی کاشت کامیابی سے مکمل کی جا چکی ہے جو زرعی تنوع کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔رانا تنویر حسین نے بتایا کہ نیشنل اولیو پروگرام صرف زرعی منصوبہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہتی ترقیاتی اقدام ہے جس کے دور رس اثرات ہیں۔ یہ پروگرام موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے، زمین کے کٹائو اور صحرا زدگی روکنے، زرعی تنوع بڑھانے اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وژن کے تحت حکومت نے متعدد سہولیات قائم کی ہیں جن میں 51 زیتون آئل ایکسٹریکشن یونٹس، 6 فروٹ پروسیسنگ فیکٹریاں، 5 ویڈر اسٹیشن، 14 نرسریاں اور 4 اولیو آئل کوالٹی لیبارٹریاں شامل ہیں، جن میں ایک جدید سینسری ایویلیوایشن لیب بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں خواتین اور نوجوانوں کو زیتون کی ویلیو چین کے مختلف مراحل میں تربیت دی گئی ہے جبکہ 90 سے زائد سٹارٹ اپس زیتون پر مبنی کاروبار کے ذریعے مقامی معیشت میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ پاکستان کی سٹارٹ اپ برانڈ "LO – لورالائی اولیو” نے نیویارک اولیو آئل کوالٹی مقابلے میں سلور ایوارڈ جیت کر عالمی سطح پر پاکستانی زیتون کے معیار اور ممکنات کو نمایاں کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے اولیو ویلیو چین پالیسی 2030 بھی تشکیل دی ہے، جو زیتون کے شعبے کی پائیدار ترقی، موثر نظم و نسق اور جدت کے لیے واضح رہنما اصول فراہم کرتی ہے اور بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ ہے۔وفاقی وزیر نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان 2015ء کے انٹرنیشنل ایگریمنٹ آن اولیو آئل اینڈ ٹیبل اولیوز کا مکمل رکن بننے کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں نمایاں پیش رفت کی جا چکی ہے اور پاکستان جلد انٹرنیشنل اولیو کونسل کا فعال اور موثر رکن بننے کی امید رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی او سی کی تکنیکی معاونت، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور افرادی قوت کی تربیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اپنے زیتون کے شعبے کی ترقی کو مزید تیز کر سکے گا۔ رانا تنویر حسین نے انٹرنیشنل اولیو کونسل کے مشترکہ وژن عالمی زیتون کے شعبے میں اعلیٰ معیار، پائیداری اور بین الاقوامی تعاون کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور عالمی زیتون صنعت کے ایک بہتر، مستحکم اور پائیدار مستقبل کے لیے اپنا پورا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔









